52

گاؤ ماتا کے بعد پیش خدمت ہیں رافیل پتاشری

فرانس سے فورتھ جنریشن جیٹ فائٹررافیل خریدنے والے بھارت کی خوشی دیدنی ہے۔ یہ طیارہ وصول کرنے کیلئے پیرس جانے والے بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے طیارے کو نظرلگنے سے بچانے کیلئے وہیں پوجا پاٹ اور جنترمنتر بھی شروع کردیے۔

فائٹر طیارے رافیل کیلئے ’’شسترپوجا‘‘ کااہتمام کرتے ہوئے بھارتی وزیردفاع نے پہلے تو اس پر سِندور سے لفظ ’’اوم‘‘ لکھا، پھر اس پر پھول، ناریل اور لڈو چڑھائےگئے۔ اسی پر اکتفا نہیں بلکہ ممکنہ تباہی سے بچانے کیلئے پہیوں کے نیچے لیموں بھی رکھے گئے۔

جدید ترین فرانسیسی ٹیکنالوجی ایک طرف لیکن وزیردفاع راج ناتھ صاحب نے اپنی اختیارکردہ تدابیر کے بعد ہی خود کو محفوظ سمجھتے ہوئے اس طیارے میں سفربھی کیا۔

کہاں فورتھ جنریشن اورکہاں ناریل لیموں کے سہارے حفاظت ؟ سوشل میڈیا صارفین ایسے کسی بھی معاملے میں چوکتے نہیں، سو ٹوئٹرپراس حوالے سے دلچسپ تبصروں کی لائن لگ گئی ،صارفین نے میمز کے ذریعے بھی خوب آئینہ دکھایا۔

 

صارفین نے لکھا کہ بھارت ناقابل یقین ہے، پہلے ملک کی حفاظت کیلئے طیارہ خریدا اور پھر اس طیارے کی حفاظت کیلئے لیموں خریدے اس لیے ملک کی حفاظت کیلئے تو لیموں ہوا تو طیارہ آرام فرمائے۔

 

 

 

 

 یہ نکتہ بھی خوب اٹھایا گیا کہ فرانس بھی حیران ہوگا ان کی ٹیکنالوجی میں ایسا کیا نہیں تھا جو لیموں کرسکتا ہے۔ اس بات کے ٹیسٹ کیلئے طیارے کو پاکستان کے بارڈر پر بھجوانے کا مشورہ بھی دیا گیا۔

 

 

 

ناریل اور لیموں کی اہمیت اپنی جگہ لیکن بعض ٹوئٹر صارفین کو رافیل پر ’’گائے کے پیشاب ‘‘ جیسا تیر بہدف نسخہ نہ آزمانے پر حیرت ہوئی کیونکہ ان کی نظر میں وہ اسٹیلتھ ٹیکنالوجی سے زیادہ آزمودہ ہے۔

 

 

بھارت کے آئے روز تباہ ہونے والے طیاروں پر بھی خوب تنقید کے نشتر برسائے گئے، سوشل میڈیا صارفین نے بھارت سے سوال اٹھایا کہ ان پر پر لیموں اور ناریل کا استعمال کیوں نہیں کرتے؟۔

 

 

رافیل کا مستقبل بھی خوب دکھایا گیا۔

 

 

سونے پر سہاگا، سوشل میڈیا صارفین نے گائے ماتا کے بعد رافیل پتا شری کی انٹری بھی کروادی۔

 

 

فی الحال بھارتی پائلٹ طیارے کو اڑانے کی صلاحیت نہیں رکھتے، سوشل میڈیا صارفین نے یہ پہلو بھی خوب اجاگرکیا۔

 

تین ہزارکلو میٹر دور تک میزائل داغنے والا جدید ترین طیارہ رافیل انڈین ایئر فورس کی طاقت میں اہم اضافہ ثابت ہوگا۔

اس طیارے کا حصول مودی حکومت کیلئے اتنا آسان نہ تھا کیونکہ بھارتی اپوزیشن فرانس کے ساتھ رافیل جیٹ طیاروں کی خریداری کے معاہدے میں اربوں ڈالر کی بدعنوانی کا الزام عائد کرتے ہوئے وزیراعظم مودی سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔

بھارت نے فرانس سے 36 رافیل طیارے خریدنے کا معاہدہ سال 2016 میں کیا تھا لیکن اپوزیشن کی جانب سے کرپشن کے الزامات کے باعث یہ ڈیل تاخیر کا شکارہوئی اوراس پرعملدرآمد مودی کے دوسرے دور حکومت میں ممکن ہوا۔

بھارتی فضائیہ کے 10 پائلٹس، 10 فلائٹ انجینئرز اور 40 ٹیکنیشینز فرانس میں تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ طیاروں کی باضابطہ حوالگی مئی 2020 میں پائلٹس اورعملے کی مکمل تربیت کے بعد شروع ہوگی اور اپریل 2022 تک مکمل ہوجائے گی۔

 

 

 

 

 

 

 

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں