37

ادویات کی قیمتوں میں ایک بارپھراضافہ

 

ادویہ ساز کمپنیوں نے دواؤں کی قیمتیں ایک بار پھر بڑھاتے ہوئے 7 فیصد اضافہ کردیا ہے۔

پی ٹی آئی حکومت کے دور میں ادویات کی قیمتیں مجموعی طور پر 77 فیصد بڑھ چکی ہیں۔

ڈریپ حکام کے مطابق شوگر، بلڈ پریشر اور السر کی دوائیں 46 روپے تک مہنگی کردی گئی ہیں۔ تیزابیت سے چھٹکارا دلانے والے سیرپ کی قیمت میں بھی 46 روپے اضافہ کردیا گیا۔

شوگرکنڑول کرنے والی گولیوں کے پیکٹ میں 30 روپے اور بلڈ پریشر کم کرنے والی دوا کی قیمت میں 12 روپے اضافہ کردیاگیا۔

السر اور درد بھگانے کی دوائیں 2 ، 2 روپے مہنگی جبکہ کیلشیئم کی کمی پوری کرنے والی گولیوں کا پیکٹ خریدنے کیلئے بھی 5 روپے اضافی ادا کرنا ہوں گے۔

یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ادویہ سازکمپنیوں نے دوائیں 300 سے 400 فیصد مہنگی کر دی تھیں جس کے بعد وزیراعظم عمران خان کے نوٹس پر معاون خصوصی صحت ڈاکٹر ظفر اللہ مرزا نے 70 فیصد سے زائد اضافہ واپس کراتے ہوئے قیمتیں منجمد کر دی تھیں۔

حالیہ اضافے سے متعلق ڈریپ حکام کا موقف ہے کہ دوائیں تیار کرنے والی کمپنیوں کو ہرسال نرخ 7 فیصد بڑھانے کا اختیار ہے اوراسی کے تحت قیمتوں میں اضافہ کیا گیا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں