30

منشیات کے اسمگلروں نے پولیس والوں کی جان بچالی

اسمگلروں نے سمندر میں چھلانگ لگا کر پولیس والوں کی جان بچائی اور انہیں سرکاری بوٹ پر واپس چڑھا دیا۔ (فوٹو: یوٹیوب اسکرین گریب)

اسمگلروں نے سمندر میں چھلانگ لگا کر پولیس والوں کی جان بچائی اور انہیں سرکاری بوٹ پر واپس چڑھا دیا۔ (فوٹو: یوٹیوب اسکرین گریب)

بارسلونا: پچھلے ہفتے اسپین کی سمندری حدود میں منشیات کے اسمگلروں نے اپنی گرفتاری اور سزا کی پروا کیے بغیر تین پولیس والوں کی جان بچائی جو سمندر میں ڈوب رہے تھے۔

خبروں کے مطابق، جنوبی اسپین میں کوسٹا ڈیل سول سے متصل سمندری علاقے میں بحری گشت پر مامور پولیس والوں نے ایک مشکوک کشتی دیکھی جس پر انہیں شبہ ہوا کہ شاید اس میں منشیات کی اسمگلنگ کی جارہی ہے۔ انہوں نے لاؤڈ اسپیکر پر خبردار کرتے ہوئے اس کشتی کو رکنے کا اشارہ بھی کیا لیکن وہ کشتی رکنے کے بجائے اور تیزی کے ساتھ ان سے دور ہونے لگی جس پر پولیس والوں نے بھی اپنی بوٹ میں ان کا تعاقب کیا۔

اسی دوران پولیس بوٹ بے قابو ہوکر اسمگلروں کی کشتی سے جا ٹکرائی اور اس میں سے تین پولیس اہلکار سمندر میں گرگئے۔ خراب موسم کی وجہ سے یہ تینوں اہلکار ڈوبنے لگے اور مدد کے لیے پکارنے لگے۔

اگرچہ کچھ بلندی پر پولیس کا ایک ہیلی کاپٹر بھی موجود تھا لیکن اتنے کم وقت میں پولیس والوں کی مدد کرنا اس کے لیے بھی ممکن نہ تھا۔ یہ دیکھ کر اسمگلروں نے سمندر میں چھلانگ لگادی اور ان تینوں پولیس والوں کی جان بچا کر انہیں سرکاری بوٹ پر واپس چڑھا دیا۔

البتہ، پولیس اہلکاروں نے اپنا فرض پورا کرتے ہوئے ان چاروں اسمگلروں کو گرفتار کرلیا جبکہ ان کی کشتی سے حشیش کے 80 پیکٹ بھی برآمد کرلیے جو مجموعی طور پر 3 ٹن سے بھی زیادہ وزنی نکلے۔

اب ان اسمگلروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جارہی ہے لیکن امید ہے کہ پولیس اہلکاروں کی جان بچانے کے صلے میں ان کی سزا بھی شاید نرم کردی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں