28

ریستوران میں سیلز ٹیکس، دکانداروں کی دھوکہ دہی کیسے چیک کریں؟

ایف بی آر کی جانب سے سیلز ٹیکس چوری کرنے والے تاجروں کیخلاف کریک ڈاؤن کے بعد صارفین کا شعور بیدار ہوا ہے جبکہ عوام ریستوران مالکان اور دکانداروں سے یہ سوال کرتے نظر آرہے ہیں کہ اگر وہ سیلز ٹیکس ہم سے وصول کر رہے ہیں تو کیا وہ حکومت کے پاس بھی جا رہا ہے یا نہیں۔

مثال کے طور پر اگر آپ کوئی کھانے کی چیز یا اپنی پسندیدہ کُرتی (کپڑے) خریدتے ہیں جس کی رسید بھی میسر نہیں ہوتی تو اس پر ادا کیا جانے والا سیلز ٹیکس حکومت کو موصول نہیں ہوتا لیکن رسید ہونے کے باوجود اس بات کی تصدیق کرنا بہت مشکل ہے کہ آپ کی جیب سے ادا کیا گیا ٹیکس حکومت تک پہنچ بھی رہا ہے یا نہیں۔ مگر پریشان ہونے کی قطعی ضرورت نہیں کیونکہ سماء ڈیجیٹل نے اس حوالے سے ریسرچ کی ہے جس سے آپ کو حقیقت کا اندازہ ہو جائے گا۔

آپ کی جیب سے ادا کردہ ٹیکس حکومت کو پہنچ رہا ہے یا نہیں یہ جاننے کیلئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (وفاقی ٹیکس) اور سندھ ریونیو بورڈ (صوبائی ٹیکس) کی ویب سائٹ سے آن لائن چیک کر سکتے ہیں۔

سیلز ٹیکس سے متعلق کیا جاننا ضروری ہے؟

سیلز ٹیکس دو قسم کے ہوتے ہیں ، ایک وہ جو آپ سروسز کی مد میں جیسے ریستوران میں کھانا، شادی ہال کرایہ پر لینا، بال کٹوانا یا فلم کا ٹکٹ خریدنے پر دیتے ہیں، یہ ٹیکس صوبائی حکومتوں کو جاتا ہے، مثال کے طور پر کراچی یا حیدرآباد میں یہ ٹیکسز سندھ ریونیو بورڈ جمع کرتا ہے، یہاں آپ یہ تصدیق کرسکتے ہیں کہ آیا آپ کے کھانے پر 13فیصد ٹیکس لینے والے ریستوران واقعتاً یہ رقم سندھ ریونیو بورڈ کو ادا کررہے ہیں یا نہیں ۔

اپنے ریستوران کے بل پر موجود سیلز نیشنل ٹیکس نمبر کو آپ سندھ ریونیو بورڈ کی ویب سائٹ پر آن لائن چیک کرسکتے ہیں، اگر ریستوران حکومت کو ٹیکس ادا کررہا ہے تو نتائج کی حیثیت 100 فیصد ہوگی، اگر ایسا نہیں تو کچھ گھپلا ہے، آپ ریستوران کے مالک سے اس تضاد کے حوالے سے وضاحت طلب کرسکتے ہیں، تمام صوبوں میں صوبائی سیلز ٹیکس کے لئے آن لائن تصدیق کا نظام موجود ہے۔

 دوسری قسم کا ٹیکس وہ ہوتا ہے جو آپ مصنوعات پر ادا کرتے ہیں، جیسے گروسری کی اشیاء، کپڑے، گھریلو سامان، فرنیچر وغیرہ۔ یہ ٹیکس وفاقی حکومت کو جاتا ہے اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو اسے وصول کرتا ہے۔

آپ خریداری پر جو سیلز ٹیکس دے رہے ہیں وہ ایف بی آر کے پاس جا رہا ہے یا نہیں، خریداری کی رسید سے ایس آر ٹی این یا این ٹی این نمبر نوٹ کریں اور ایف بی آر کی ویب سائٹ سے اس کی تصدیق کرلیں، این ٹی این نمبر کی صورت میں 8 ہندسوں پر منتخب کریں (آخری ہندسے سے قبل ڈیش والا)۔ اگر نتیجہ میں دکاندار کی حیثیت آپریٹو کے طور پر ظاہر ہوتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ٹیکس حکومت کو جارہا ہے، اگر حیثیت معطل یا غیر فعال یا بلیک لسٹ ہے تو آپ جانتے ہیں کہ آپ کو کیا کرنا ہے۔

 

اگر آپ کسی خاص شے پر ادا کئے گئے سیلز ٹیکس کی حیثیت کی بھی تصدیق کرنا چاہتے ہیں تو اس کیلئے اپنے بل سے 26 ہندسوں کا ایف بی آر انوائس نمبر نوٹ کریں اور اسے یہاں آن لائن چیک کریں۔ البتہ تمام دکاندار اس انوائس نمبر کو پرنٹ نہیں کرتے ہیں جو کہ ایف بی آر کے سیلز ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

جیسا کہ سوشل میڈیا پر ہونے والی گفتگو سے ظاہر ہے کہ لوگ ایس این ٹی این ، این ٹی این ، جی ایس ٹی اور ایس آر ٹی این وغیرہ کے بارے میں کشمکش کا شکار ہیں، ہم یہ گتھی بھی ملبوسات کے برانڈز، گروسری کی اشیاء اور ریستوران سے آنیوالی درجن سے زائد فروخت رسیدوں کا مطالعہ کرکے سلجھا چکے ہیں۔

آپ یہ تصدیق کرنے کیلئے کہ آیا سیلز ٹیکس کی مد میں ادا کی گئی رقم حکومت تک پہنچی یا نہیں، آپ کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ رسید سے کون سا نمبر استعمال کرنا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ٹیکس پالیسی میں تبدیلی کے بعد کچھ ریستوران اور دکانداروں نے اپنی رسیدوں کو اپ ڈیٹ نہیں کیا۔

مثال کے طور پر سندھ حکومت کے ساتھ رجسٹرڈ کچھ کاروباری حضرات ایس این ٹی این کی بجائے ایس ایس ٹی یا این ٹی این پرنٹ کر رہے ہیں لیکن اس کا مطلب ہر یہ نہیں کہ وہ دھوکہ دے رہے ہیں۔ جب تک وہ آپ کو 8 ہندسوں پر مشتمل نمبر (آخری ہندسے سے قبل ڈیش والا) دے رہے ہیں، آپ ایس این ٹی این نمبر کی آن لائن تصدیق اوپر دیئے گئے طریقہ کار کے مطابق کرسکتے ہیں۔

یہ الجھن ٹیکس پالیسی میں تبدیلی کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے جس نے بالترتیب وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مابین اشیاء اور سروسز کے ٹیکس کو تقسیم کیا۔ مثال کے طور پر کچھ سروسز پر مبنی کاروبار جو ایف بی آر کے ساتھ پہلے رجسٹرڈ تھے وہ ابھی بھی حکومت سندھ کی ضرورت کے مطابق ایس این ٹی این کی بجائے اپنے بلوں پر این ٹی این پرنٹ کر رہے ہیں۔

 

 

16 hours ago

16 hours ago

2 days ago

2 days ago

5 days ago

5 days ago

 

 

 

 

 

 

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں